ابنا: جلسے میں ہزارہ قوم کے اکابرین نے شرکت کی جس میں چیف آف ہزارہ سردارسعادت علی ہزارہ، امام جمعہ کوئٹہ ومجلس وحدت مسلمین کے رکن شوریٰ علامہ سید ہاشم موسوی، انجمن اتحاد تاجران کے صدر طاہر نظری، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رکن سید داؤد آغا، جامعہ امام صادق کے پرنسپل علامہ جمعہ اسدی، سید مسرت حسین اور محمد علی ایڈوکیٹ سمیت دیگر افراد نے شرکت کی ۔ جلسے میں سینکڑوں مومنین نے شرکت کی ۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن کی امام بارگاہ ولی عصر میں بلوچستان شیعہ کانفرنس کے زیراہتمام احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا ۔ جلسے کا آغازتلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردارسعادت علی ہزارہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ہزارہ قوم کومختلف چیلنجزکا سامنا ہیں جسے ہم صرف اتحاد واتفاق ہی سے حل کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے ہزارہ قوم کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے بروری تھانہ کے ایس ایچ اوکو سخت تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے کہا کہ یہ انتظامیہ اورحکومت کی نااہلی ہے کہ وہ غیرقانونی طریقے سے مظاہرین کوتشدد کا نشانہ بناتے ہے اوران پرمختلف ناجائزمقدمات عائد کرتے ہیں ۔ سردار سعادت علی ہزارہ نے تمام ہزارہ قوم سے گزارش کی کے سب ایک پلیٹ فارم پرجمع ہوکراکھٹے کام کرے تاکہ ہمارے مسائل حل ہوسکے ۔تقریب سے علامہ سید ہاشم موسوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کی یہ تنظیمیں بے گناہ انسانوں کوٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر ہمارے درمیان تفریق اورخوف کوبڑھانا چاہتے ہیں لیکن ہم اس مقصد کوکامیاب نہیں ہونے دینگے ۔جلسے میں بلوچستان شیعہ کانفرنس کی جانب سے سریاب روڈ پراہل سنت سے تعلق رکھنے والےقاری محمد قاسم کے ٹارگٹ کلنگ کی بھی شدید مذمت کی اورقاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔اسکے علاوہ دیگرمقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کی سخت مذمت کی اورحکومت وانتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعات میں ملوث عناصرکوگرفتارکیا جائے ۔ جلسے کے آخرمیں مطالبات پیش کئے گئیں کہگرفتارکئے گئے ہزارہ نوجوانوں کورہا کیا جائے ۔نااہل حکومت فوری مستعفی ہوجائے ۔ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصرکوگرفتارکیا جائے ۔یوم القدس کے سانحہ میں بے گناہ مومنین پرقائم کئے گئے مقدمات واپس لئے جائے۔
...................
/110









